نئی دہلی،14/دسمبر (آئی این ایس انڈیا) نئے زرعی قوانین کیخلاف کسانوں کے احتجاج کا آج 19 واں دن ہے۔ آج دہلی کی سرحدوں پر کسان بھوک ہڑتال پر ہیں۔
وہیں وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ اترپردیش، کیرالہ، تمل ناڈو، تلنگانہ، بہار اور ہریانہ کی 10 کسان تنظیموں نے زرعی قوانین کی توثیق کی ہے۔ احتجاجی کسانوں کو تومر نے کہا کہ ہم مذاکرات کے لئے تیار ہیں، اگر وہ ہماری تجویز پر اپنی ائے دیتے ہیں، تو ہم یقینی طور پر مزید بات کریں گے۔
مرکزی وزیر پیوش گوئل نے کہاکہ ملک کا کسان مودی حکومت کے زرعی قوانین کی اہمیت کو’سمجھتا‘ ہے۔مرکزی وزیر پیوش گوئل کے مطابق ریاستوں کے کسان نمائندوں نے کہا ہے کہ پنجاب میں تحریک سیاسی طور پر جاری ہے۔ ان قوانین کو کسی قیمت پر واپس نہیں لیا جانا چاہئے۔
دوسری طرف وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ زراعت ایک اہم شعبہ ہے، اس کے خلاف فیصلہ لینے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ موجودہ اصلاحات کسانوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کئے گئے ہیں۔ کسانوں کے ساتھ بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔پیوش گوئل نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ کسان مودی حکومت کے وضع کردہ قوانین اور اس کی ”اہمیت‘سمجھتے ہیں۔ مختلف ریاستوں کے کسان نمائندوں نے ان بلوں کی حمایت کی اور کہا کہ پنجاب کے کسانوں کی نقل و حرکت سیاسی تحریک ہے، قوانین کو کسی قیمت پر واپس نہیں لیا جانا چاہئے۔
بھارتیہ کسان یونین (ہریانہ) کے صدر گرنام سنگھ نے کہا ہے کہ حکومت ایم ایس پی پر سب کو گمراہ کررہی ہے۔ ایک طرف بی جے پی تشہیر کر رہی ہے کہ ایم ایس پی جاری رہے گی۔ دوسری طرف وزیر داخلہ امت شاہ نے 8 دسمبر کو ہم سے ایک ملاقات میں کہا تھا کہ حکومت ایم ایس پی پر تمام 23 فصلیں نہیں خرید سکتی، کیونکہ اس پر 17 لاکھ کروڑ روپے لاگت آئیں گے۔
خیال رہے کہ آل انڈیا کسان کوآرڈینیشن کمیٹی سے وابستہ 10 تنظیموں نے وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر سے ملاقات کی ہے اور زر عی بلوں کی حمایت کی ہے۔ یہ تنظیمیں اترپردیش، کیرالہ، تمل ناڈو، تلنگانہ، بہار اور ہریانہ سے ہیں۔ آر ایس ایس سے منسلک تنظیم سودیشی جاگرن منچ بھی (ایم ایس پی) کی حمایت کر رہی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ کاشتکاروں کو ایم ایس پی کی ضمانت ملنی چاہئے۔ اس سے کم قیمت پر خریداری کو غیر قانونی قرار دیا جانا چاہئے۔
وہیں 16 دسمبر کو سپریم کورٹ کسانوں کو دہلی کی سرحدوں سے ہٹانے کے لئے درخواست کی سماعت کرے گا۔ اس کی سماعت چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کے بنچ میں ہوگی۔ درخواست پیش کرنے وا لے رشبھ شرما کا کہنا ہے کہ کسانوں کی تحریک سے سڑکیں جام ہیں اور اس سے عام عوام پریشان ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کروناوائرس کے پھیلاؤ کا بھی خطرہ ہے۔وہیں دہلی کے وزیر اعلی اور عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کجریوال نے کسانوں کی بھوک ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے آج ’برت‘ رکھا ہے۔
انہوں نے اپنی پارٹی کارکنوں اور حامیوں سے بھی ’برت‘ رکھنے کی اپیل کی ہے۔ دوسری طرف وزیر اعلی پنجاب امریندر سنگھ نے کجریوال کے ’برت‘کو سیاسی چال قرار دیا ہے۔دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے کہا کہ ہمارے کسان ان دنوں مشکلوں میں ہیں، جن کو اپنے کھیتوں میں کام کرنا چاہئے وہ سردی کے دنوں میں سڑکوں پر بیٹھے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ ملک کے عوام وکیلوں، اداکاروں، ڈاکٹروں تمام طبقہ کے لوگ تحریک کے حامی ہیں،ہم بھی کسانوں کے ساتھ ہیں۔